اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق، حالیہ حکومت اوسطاً یومیہ 37 کروڑ روپے کے قرضے لے رہی ہے جن میں سے مقامی ذرائع سے 18 کروڑ جبکہ بیرونی ذرائع سے اوسطاً یومیہ 19 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے لیے جارہے ہیں۔
وفاقی حکومت کے مطابق مالی سال 2022-23 کے ابتدائی بجٹ کے لحاظ سے اوسط یومیہ اخراجات سے بھی 10 ارب روپے زائد قرضہ لیا جارہا ہے، بجٹ کے ابتدائی تخمینہ کے لحاظ سے حکومت کے یومیہ اوسط اخراجات (جاری و سرمایہ جاتی کے ساتھ) 26 ارب روپے بنتے ہیں۔
وفاقی حکومت نے مقامی ذرائع سے اوسطاً 18 کروڑ روپے جبکہ بیرونی ذرائع سے اوسطاً 19 کروڑ روپے کے قرضے حاصل کیے ہیں۔ اتحادی حکومت کے پہلے 10 ماہ کے دوران ملک کے مقامی قرضوں میں 22 فیصد اور غیرملکی قرضوں میں 38.5 فیصد اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق، موجودہ حکومت کے دور میں صرف مرکزی حکومت کے قرضے 27.7 فیصد اضافہ سے 43 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے، دس ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 54.94 ارب روپے کا اضافہ ہوا.
اس دوران مقامی قرضوں کی مالیت میں 6179 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس سے ان کی کل مالیت دس ماہ کے دوران 22 فیصد بڑھ کر 34,255 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
اسی دوران حکومت کے غیر ملکی قرضوں کی مالیت میں 5751 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور بیرونی قرضوں کی سطح بڑھ کر 20,687 ارب روپے تک پہنچ گئی جو 38.5 فیصد کی اضافہ تھا۔



















