کراچی کے ثانوی تعلیمی بورڈ کے امتحانات میں انتظامیہ کو نقل روکنے میں ناکامی کا سامنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں کھلے عام نقل کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب بورڈ انتظامیہ نے 129 کیسز پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لانڈھی لیبر اسکوائر اور بن قاسم کے نجی اسکولوں میں طلبہ آسانی سے نقل کرتے رہے۔ سدرہ سیکنڈری اسکول، ایف شاہ سیکنڈری اسکول، 786 چلڈرن اکیڈمی سیکنڈری اسکول، گورنمنٹ بوائز سیکنڈری کے ٹی ایس نمبر 6 کورنگی، دی اکنالج اکیڈمی کورنگی، دی سٹی گرامر اسکمول اورنگی ٹاؤن، نونہال سیکنڈری اسکول سائٹ ٹاؤن، عزیز ملت ہائی اسکول اورنگی ٹاؤ ن، آئیڈیل اکیڈمی سیکنڈری اسکول، ایکوا ایجوکیشنل اکیڈمی سیکنڈری اسکول گلستان جوہر، نیشنل گرامر اسکول شادمان ٹاؤن ملیر، شہیدان وطن میموریل سیکنڈری اسکول اورنگی سے، غزالہ سیکنڈری اسکول اورنگی ٹاؤن، اور دیگر مدارس میں بھی نقل کا معاملہ سامنے آیا۔
علاوہ ازیں، شام کی شفٹ میں نہم و دہم جماعت کے عام گروپ کے اسلامیات (اجباری) کے پیپر کے دوران نقل کرنے میں ملوث ہونے والے تفتیشی ٹیم نے ایونٹنگ کیا اور وہاں دوسری سرکاری بوائز سیکنڈری اسکول اورنگی ٹاؤن اور مفدل سیکنڈری اسکول شاہ فیصل کے دو طلباء پکڑے گئے۔
امتحانات کے سائنس گروپ کے دسویں جماعت کے ٹھرزڈے کے امتحانات کے دوران، مشرفِ امتحانات حبیب اللہ سہگ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ مختلف امتحان سینٹرز سے 129 طلباء کا موبائل فون استعمال کرنے اور نقل کرنے کے لئے رپورٹ کی گئی ہے۔ انہوں نے ذرائعِ تحقیقی کمیٹی کو گرفتار ہونے والے امتحان سینٹرز کے لئے مناسب سزا تعین کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صبحی اور شامی ٹبز کو ہمزادہ دوروں میں تمام امتحان سینٹرز پر بازیابی کے لئے فریکوئنٹ وزٹس کی جا رہی ہیں اور نقل روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
میٹرک بورڈ کے چیئرمین سید شریف علی شاہ نے کہا ہے کہ مکمل امتحانات مکمل ہونے کے بعد مکمل امتحانی عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔ تفتیشی ٹیموں اور بورڈ کی ٹیم کی طرف سے کئی سکیورٹی تدابیر کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ آئندہ کے امتحانات میں نقل کرنے کے عمل کو روکا جا سکے۔



















