بیروت: لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد قائم مقام سربراہ نعیم قاسم کو اپنا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ وہ اس سے قبل حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل تھے۔
حزب اللہ نے تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کی شوریٰ کونسل نے متفقہ طور پر قاسم (71) کو نیا سربراہ منتخب کیا ہے۔ نعیم قاسم کو 1991 میں حزب اللہ کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ نصراللہ کے حزب اللہ کے سربراہ منتخب ہونے کے بعد بھی نعیم نائب سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔
حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ قاسم کو تنظیم کے اصولوں اور مقاصد پر عمل کرنے کے جوش کی وجہ سے منتخب کیا گیا۔ نعیم کو عام طور پر حزب اللہ میں نمبر دو لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ ان لوگوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں حزب اللہ کی بنیاد رکھی تھی۔
حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد ان کے خالہ زاد بھائی اور داماد ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کا سربراہ منتخب کیے جانے کا قوی امکان تھا، مگر صفی الدین بھی کچھ دن قبل ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوگئے۔
واضح رہے کہ طویل عرصے تک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور سربراہ رہنے والے حسن نصراللہ گزشتہ ماہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
شیخ نعیم قاسم کون ہیں؟
شیخ نعیم قاسم کا حزب اللہ کے سینئر اور تجربہ کار رہنماؤں میں کیا جاتا ہے، وہ جنوبی لبنان کے قصبے کفر فلا میں پیدا ہوئے اور لبنان یونیورسٹی سے کیمیا کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طویل عرصے تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ، ساتھ ساتھ انہوں نے مذہبی تعلیم کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور مسلمان طلبہ کیلئے یونین سازی کا بھی حصہ رہے ۔
1970 میں وہ امام موسیٰ صدر کی ’امل تحریک‘ کا حصہ بنے تاہم لبنانی نوجوان کی سیاسی سوچ میں تبدیلی کا محرک بننے والے انقلاب ایران کے بعد وہ 1979 میں امل تحریک سے علیحدہ ہوگئے۔
1982 میں اسرائیلی مظالم کےخلاف حزب اللہ کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کا حصہ بن گئے، 1991 سے وہ تنظیم کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے فرائض انجام دیتے رہے ، انہوں نے حسن نصر اللہ سے قبل عباس موسوی کے نائب کے فرائض بھی انجام دیے تھے جو کہ 1992 میں اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے حملے میں شہید ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ گزشتہ ماہ 27 ستمبر کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک عمارت پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی بیٹی زینب نصر اللہ اور کئی ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے تھے۔
حزب اللہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف غزہ، فلسطین کی حمایت میں جنگ جاری رہے گی، لبنان اور اس کے قابل قدر عوام کے دفاع میں اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔


















