وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے لیے گئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام ادارے فعال کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم نے اس مکروہ دھندے کے ذریعے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف انتہائی سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم نے ایف آئی اے میں افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سفر کرنے والوں کی سکریننگ کا معیاری نظام قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ، وزارت اطلاعات و نشریات کو غیر قانونی بیرون ملک سفر اور انسانی سمگلنگ کے بارے میں مؤثر آگاہی مہم چلانے کی ہدایت بھی دی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ایف آئی اے کو بیرون ملک انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث انتہائی مطلوب سمگلروں کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے تعاون حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران اجلاس میں انسانی سمگلروں کے خلاف اب تک کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
جون 2023 اور دسمبر 2024 کے دوران انسانی سمگلنگ کے واقعات میں متعدد انسانی سمگلرز گرفتار ہو چکے ہیں، اور کئی سہولت کار سرکاری اہلکار برطرف ہو چکے ہیں یا تادیبی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف تعزیری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور انسانی سمگلروں کے 500 ملین روپے سے زائد کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں۔ مزید ضبطی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی سمگلروں کے استغاثہ کے عمل کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر بھی تعینات کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔



















