پنجاب کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جاری شدید بارشوں نے تباہی پھیلا دی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں چھتیں گرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو زیادہ تر کمزور تعمیرات کا شکار ہوئیں۔
لاہور میں سب سے زیادہ جانی نقصان دیکھنے میں آیا جہاں مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے سے 12 افراد ہلاک ہوئے۔ رائیونڈ کی مشن کالونی میں ایک گھر کی چھت گرنے سے خاندان کے سربراہ سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ کوٹ جمال پورہ میں ایک شخص کی موت واقع ہوئی جبکہ 3 زخمی ہوئے۔ ٹھوکر نیاز بیگ کا واقعہ سب سے المناک رہا جہاں ایک ہی خاندان کے 5 ارکان، جن میں دو معصوم بچے بھی شامل تھے، چھت گرنے سے جاں بحق ہو گئے۔ مومن پورہ میں بھی اسی قسم کے حادثے میں 3 افراد کی جانیں گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق زیادہ تر گرنے والی چھتیں بانس، مٹی، سرکی اور لکڑی جیسی کمزور تعمیراتی مواد سے بنی ہوئی تھیں جو مسلسل بارش کا دباؤ برداشت نہ کر سکیں۔ لاہور کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں – فیصل آباد میں 6، پاکپتن اور اوکاڑہ میں 3،3، شیخوپورہ میں 2 جبکہ ننکانہ صاحب اور فاروق آباد میں مجموعی طور پر 3 افراد ہلاک ہوئے۔
بارشوں نے دیگر صوبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ راجن پور میں کوہِ سلیمان کے علاقے میں ندی نالوں میں طغیانی آ جانے سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر، مظفرآباد، وادی نیلم، وادی جہلم اور وادی لیپہ میں بھی شدید بارشیں جاری ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ گھنٹوں میں پنجاب کے مزید علاقوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان، ساہیوال، بہاولپور اور جہلم میں موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی موجود ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔



















