لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر رہنما اور سابق وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو طبیعت میں شدید خرابی کے باعث کوٹ لکھپت جیل سے ہنگامی بنیادوں پر سروسز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
جیل حکام کے مطابق، ڈاکٹر یاسمین راشد کو سانس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے ان کی حالت نازک ہو گئی۔ طبی عملے نے فوری طور پر انہیں آکسیجن فراہم کی، تاہم ان کی حالت میں مسلسل بگاڑ دیکھ کر ماہرین صحت نے ہسپتال میں داخلے کا مشورہ دیا۔ ذرائع کے مطابق، انہیں پیٹ اور معدے میں شدید درد کی شکایات بھی تھیں، جو ان کی صحت کے حوالے سے مزید تشویش کا باعث بنیں۔
سروسز اسپتال میں ڈاکٹر یاسمین راشد کے متعدد طبی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کی صحت کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، جو تحریک انصاف کی ایک اہم رہنما رہی ہیں، کو گزشتہ کئی ماہ سے کوٹ لکھپت جیل میں مختلف مقدمات میں قید کیا گیا ہے۔ اس دوران ان کی صحت کے حوالے سے کئی بار تشویشناک اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ ان کی موجودہ طبی حالت نے پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان میں پھر سے اضطراب پیدا کر دیا ہے، جو مسلسل ان کی رہائی اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈاکٹر یاسمین راشد کی بگڑتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے حکومتی یا عدالتی سطح پر کوئی فوری اقدام اٹھایا جائے گا؟ سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نگاہ رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف ان کے ذاتی صحت کے مسائل بلکہ ملک میں سیاسی قیدیوں کے علاج کے معیار پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر ڈاکٹر یاسمین راشد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ان کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ان کی صحت کی نازک صورت حال کو دیکھتے ہوئے متعلقہ ادارے کوئی رعایتی اقدام کرتے ہیں یا نہیں۔



















