امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک نئے صدارتی حکم نامے کے ذریعے بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر مزید 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ بھارت پر روسی تیل کی براہ راست یا بالواسطہ خریداری کا الزام لگاتے ہوئے کیا۔ یاد رہے کہ یہ نیا ٹیرف پہلے سے عائد 25 فیصد ٹیکس کے علاوہ ہوگا۔
یہ اہم پیش رفت اس اعلان کے محض ایک دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی تو اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اضافی درآمدی محصولات کا نفاذ کیا جائے گا۔
صدارتی حکم کے تحت بھارت سے درآمد ہونے والی کئی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف آئندہ تین ہفتوں میں نافذ العمل ہوگا، جبکہ ایک علیحدہ 25 فیصد ٹیرف جمعرات سے لاگو ہو رہا ہے۔ اس طرح بھارت پر دو الگ الگ سطحوں پر تجارتی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
نئے ٹیرف میں چند مخصوص شعبوں کو وقتی طور پر استثنیٰ دیا گیا ہے، جن میں اسٹیل، ایلومینیم، اور وہ اشیاء شامل ہیں جن پر پہلے سے ہی خصوصی محصولات عائد ہیں۔ اسی طرح، ادویات جیسے حساس شعبوں کو فوری اثرات سے محفوظ رکھنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت پر آیا ہے جب ایک بھارتی سرکاری اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سات سال بعد پہلی مرتبہ رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ نیا قدم بھارت اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتا ہے، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کے مذاکرات بھی حال ہی میں ناکام ہوئے ہیں۔
ادھر وائٹ ہاؤس کا یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب صدر ٹرمپ کے اعلیٰ سفارتی نمائندے اسٹیو وٹکوف اس وقت ماسکو میں موجود ہیں، جہاں وہ روسی حکومت کو یوکرین میں جنگ بندی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو امریکہ نہ صرف روس پر مزید بھاری ٹیرف لگائے گا، بلکہ روس کے اتحادی ممالک پر بھی ثانوی اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔



















