فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نئے مالی سال کے لیے انکم ٹیکس میں اہم ترامیم کے رولز جاری کر دیے ہیں، جن میں نان فائلرز کے لیے بینک سے رقم نکالنے اور جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی شرح میں تبدیلیاں شامل ہیں۔
ایف بی آر کی دستاویز کے مطابق، ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد پر اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اب نان فائلرز کے لیے یومیہ 50 ہزار روپے سے زائد کیش نکلوائی پر 0.8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جو پہلے 0.6 فیصد تھا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس حد کو 50 ہزار کی بجائے 75 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم نئے رولز میں یہ تجویز شامل نہیں کی گئی۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ہر بینکنگ کمپنی نان فائلرز سے ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس کی کٹوتی کی مجاز ہوگی۔ اسی طرح غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی پر بھی ٹیکس شرح میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جائیداد کے خریدار کو ریلیف دیتے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں 1.5 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ فروخت کنندہ یا منتقل کرنے والے کے لیے ہر سلیب پر ٹیکس میں 1.5 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، تاکہ فروخت پر حاصل ہونے والے کیپٹل گین کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔
مزید برآں، اگر کسی نے 15 سال سے پراپرٹی اپنے نام پر رکھی ہو تو اس پر انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236 سی کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، تاہم اس ملکیت کو انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔ اگر مالک نے اس مدت میں مکان یا فلیٹ میں اپنی رہائش رکھی ہو تو بھی ود ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔



















