امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں بھارتی یومِ آزادی کے موقع پر سکھ کمیونٹی نے بھرپور احتجاج کیا اور بھارتی سفارتخانے کو چاروں طرف سے گھیر کر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے اس موقع پر خالصتان کے جھنڈے تھام رکھے تھے اور بھارت مخالف نعرے مسلسل بلند کیے جا رہے تھے۔
بھارتی سفارتخانے میں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک خصوصی تقریب جاری تھی کہ اچانک بڑی تعداد میں سکھ مظاہرین وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے سفارتخانے کی عمارت کو ہر طرف سے گھیر لیا اور ’’بھارت مردہ باد‘‘ اور ’’قاتل مودی‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ اس دوران مظاہرین نے بھارتی ترنگے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے عمارت کے سامنے پھینک دیا جس سے ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔
بھارتی سفارتی عملہ مظاہرین کے غصے اور شدید احتجاجی رویے سے گھبرا گیا اور فوری طور پر پولیس کو طلب کر لیا گیا۔ پولیس کے دستے کئی گھنٹوں تک موقع پر موجود رہے تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اس موقع پر خالصتان کونسل کے سربراہ ڈاکٹر سندھو نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ روز واشنگٹن میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ہزاروں سکھ اپنی رائے دہی کے ذریعے حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب بھارتی پنجاب آزاد ہو کر ایک الگ ریاست ’’خالصتان‘‘ کی صورت میں دنیا کے نقشے پر سامنے آئے گا۔



















