امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت سمیت مختلف خطوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے اور جنگ بندی قائم رہ سکے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’این بی سی‘ نیوز کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ جنگ بندی برقرار رکھنا کبھی آسان عمل نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ پیچیدہ اور کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ سیز فائر معاہدے اکثر بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا روزانہ مختلف خطوں، جیسے پاکستان اور بھارت، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے حالات پر براہِ راست نظر رکھتا ہے تاکہ فریقین کے درمیان کسی بھی تنازعے کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ جنگ بندی اسی وقت ممکن ہے جب دونوں فریق لڑائی کو روکنے پر سنجیدگی اور آمادگی کا مظاہرہ کریں۔
یوکرین اور روس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین کی جنگ، جو ساڑھے تین سال سے جاری ہے، اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جنگ بندی کس قدر نازک مرحلہ ہے۔ روس نے تاحال جنگ بندی پر کسی حتمی اتفاق کا اظہار نہیں کیا ہے، اور اس صورتحال نے امن قائم رکھنے کے عمل کو نہایت مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایک ایسے امن معاہدے تک پہنچنا ہے جس کے تحت موجودہ لڑائی بھی رُک سکے اور مستقبل میں بھی کسی نئی جنگ کا آغاز نہ ہو۔



















