وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے واضح کیا ہے کہ قدرتی آفات اور سانحات کا براہِ راست الزام کسی بھی حکومت پر عائد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسے واقعات انسان کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ انسانیت کی خدمت اور فلاح کے لیے جو ادارے اور تنظیمیں سرگرم ہیں، انہیں سراہا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس او ایس جیسے ادارے کے فلاحی کام واقعی قابلِ تحسین ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے خیبرپختونخوا میں آنے والی حالیہ سیلابی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے ایک بڑا انسانی سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان اور وسائل روانہ کیے ہیں تاکہ متاثرین کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ سعید غنی نے کہا کہ سیلاب جیسے المیے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ وقت سیاسی فائدے اٹھانے کا نہیں بلکہ یکجہتی دکھانے کا ہے۔
وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ سندھ اور کراچی میں بھی اربن فلڈنگ کے خدشات موجود ہیں۔ ہم ماضی میں بھی اس طرح کے بحرانوں کا سامنا کر چکے ہیں، اسی لیے حکومت نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت اکیلے ایسے بڑے سانحات کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس کے لیے اجتماعی یکجہتی اور تعاون ضروری ہے۔ ماضی میں جب سندھ کو آفات کا سامنا کرنا پڑا تو صوبائی حکومت پر غیر ضروری تنقید کی گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غیر ضروری تنقید عوام میں مایوسی پھیلاتی ہے اور اس سے مسائل حل نہیں ہوتے۔



















