ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سلوشنز نے پاکستان میں ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) کو زیادہ مؤثر اور درست انداز میں جانچنے کے لیے ایک نیا اور آسان ماڈل متعارف کرایا ہے۔ اس ماڈل کو ماہرین نے دنیا کے مختلف ممالک کے 41 سالہ اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیا ہے۔ اس کے تحت اوسط عمر کو بطور ہدف استعمال کیا گیا اور پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ میجرمنٹ کے اعداد و شمار کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کر کے جہاں کمی محسوس ہوئی وہاں نئے اشارئے شامل کیے گئے۔
اس سے قبل پاکستان میں ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کا اندازہ لگانے کے لیے صحت کے شعبے میں صرف بچوں کی شرح اموات پر انحصار کیا جاتا تھا۔ چونکہ یہ ڈیموگرافک سروے باقاعدگی سے نہیں ہوتے تھے اس لیے مستقل بنیادوں پر درست ڈیٹا دستیاب نہیں تھا۔ تاہم، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سلوشنز کی ٹیم نے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ میجرمنٹ کے مسلسل جمع ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے ہر ضلع کی اوسط عمر کا حساب لگایا، جو زیادہ پائیدار اور قابلِ بھروسہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان نتائج کو عالمی سطح کے اعداد و شمار کے ساتھ ملا کر پرکھا گیا تاکہ حساب کتاب کی درستگی یقینی بنائی جا سکے۔ یہ ماڈل صحت کے شعبے کی جانچ پڑتال کو زیادہ جامع، مستند اور جدید خطوط پر استوار کرتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ طریقہ پاکستان میں صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں پالیسی سازی کے لیے ایک مؤثر، پائیدار اور قابلِ اعتماد حل ہے۔ اس کے ذریعے حکومت اور دیگر ادارے عوامی ترقی کے اہداف کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں گے، جس سے مجموعی طور پر انسانی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔



















