نیپال میں بدعنوانی مخالف شدید احتجاج کے نتیجے حکومت کے خاتمے کے بعد سابق چیف جسٹس سشیلہ کرکی کو عبوری وزیراعظم مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے استعفے کے بعد سامنے آئی ہے، جن کا استعفیٰ اس ہفتے ملک میں سب سے بڑے سیاسی بحران کے بعد آیا۔
احتجاج ایک سوشل میڈیا پابندی کے نتیجے میں بھڑک اٹھا تھا، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ مظاہروں کے دوران 34 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ پولیس کو ہجوم قابو میں کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنا پڑے۔ عوامی دباؤ اور بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث کے پی شرما اولی کو مستعفی ہونا پڑا۔
ایک ماہر آئین نے، جو صدر رام چندرا پاؤڈل اور آرمی چیف اشوک راج سگڈیل کے مشورے میں شامل تھے، بتایا کہ سشیلہ کرکی کو عبوری وزیراعظم بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ مطالبہ خاص طور پر نوجوان نسل جنریشن زی کے مظاہرین کی طرف سے سامنے آیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سشیلہ کرکی کی تقرری کا باضابطہ اعلان صدر کی رہائش گاہ پر آج صبح ہونے والے اجلاس کے بعد متوقع ہے۔ دوسری جانب صدارتی دفتر اور فوجی ترجمان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
کٹھمنڈو میں معمولات زندگی بتدریج بحال ہو رہے ہیں۔ دکانیں کھلنے لگی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بحال ہے، تاہم بعض راستے اب بھی بند ہیں اور فوجی گشت کم ضرور ہوا ہے مگر ختم نہیں ہوا۔



















