کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ محض گیارہ سال کی معصوم آسیہ نامی بچی کی لاش اس کے اپنے گھر کی چھت سے پھندے سے لٹکی ہوئی برآمد ہوئی، جس کے بعد ابتدائی تحقیقات نے اس خودکشی کے دعوے پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس معاملے کو ایک المناک موڑ دے دیا ہے۔ رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ معصوم بچی کے ساتھ نہ صرف زیادتی کی گئی بلکہ اس کے بعد اس کا گلا دبا کر وحشیانہ قتل بھی کیا گیا۔ یہ انکشاف اس خاندانی خودکشی کے بیان کے بالکل برعکس ہے جو ابتدا میں سامنے آیا تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق، بچی کے والدین کے درمیان گھریلو جھگڑے اکثر ہوا کرتے تھے۔ واقعے والی رات بھی ایک جھگڑے کے بعد بچی کی والدہ گھر سے نکل گئی تھیں، جس کے بعد آسیہ گھر پر اکیلی رہ گئی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب کسی نامعلوم درندے نے اس معصوم کا شیرازہ بکھیر دیا۔
پولیس نے سرکاری مدعی بن کر قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے، اور اس ہولناک واقعے کی گہرائی میں جانے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایک معصوم زندگی کے ضیاع پر ماتم کیا ہے، بلکہ معاشرے میں بچوں کے تحفظ اور گھریلو عدم استحکام کے سنگین مسائل پر بھی ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔



















