نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت تمام گرفتار پاکستانیوں کی رہائی کے لیے ایک بااثر یورپی ملک سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق مشتاق احمد کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لیا ہے اور پاکستان اپنی تمام تر کوششوں میں مصروف ہے کہ تمام پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لایا جائے۔ چونکہ پاکستان کے اسرائیل سے براہِ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اس لیے تیسرے ملک کے ذریعے رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
غزہ امن معاہدے سے متعلق اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلامی ممالک نے ترمیم شدہ 20 نکاتی پلان دیا تھا، لیکن فائنل ڈرافٹ میں تبدیلیاں کی گئیں جو پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف قائداعظم کے مؤقف کے عین مطابق ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کے مسائل کو اجاگر کیا اور اسرائیل کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک غزہ میں جنگ بندی رکوانے میں ناکام رہے ہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ معاہدے پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ انتہائی اہم اور سوچ سمجھ کر کیا گیا معاہدہ ہے، جس کے بعد دیگر ممالک نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مستقبل میں مسلم امہ کی قیادت کرے گا اور ایٹمی قوت کے ساتھ ساتھ معاشی طاقت بھی بنے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ شمع جونیجو کا نام آفیشل وفد میں شامل نہیں تھا، ان کا نام صرف تقریر لکھنے والی ٹیم میں درج کیا گیا تھا اور اس پر ان کے دستخط نہیں تھے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔



















