سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیلی حراست سے رہائی کے حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ نے اہم پیشرفت سے آگاہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزارتِ خارجہ، اردن کے دارالحکومت عمان میں واقع پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت واپسی کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ برادر ملک اردن کی حکومت کے قیمتی تعاون سے یہ عمل آئندہ چند روز میں کامیابی سے مکمل ہونے کی امید ہے۔ دفتر خارجہ نے اردن کی حکومت کے مثالی تعاون اور فراخدلانہ حمایت پر دلی شکریہ ادا کیا۔
ترجمان کے مطابق، گزشتہ روز بھی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر پاکستانی شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں محفوظ اور خیریت سے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ انہیں مقامی قانونی تقاضوں کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور ملک بدری کے احکامات جاری ہوتے ہی ان کی واپسی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اسرائیلی فورسز کے قبضے میں موجود اپنے شہریوں کی سلامتی اور فوری رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان غزہ کی جانب روانہ ہونے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” میں شامل تھے۔ اسرائیلی فورسز نے قافلے پر حملہ کر کے مشتاق احمد سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ قافلے کے کئی ارکان کو رہا کیا جا چکا ہے، تاہم مشتاق احمد اور چند دیگر اب بھی اسرائیلی حراست میں موجود ہیں۔



















