پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پامہ) نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں فروخت ہونے والی تقریباً 90 فیصد الیکٹرک بائیکس میں ناقص اور پرانی ٹیکنالوجی کی بیٹریاں استعمال کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف غیر معیاری ہیں بلکہ صارفین کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پامہ کے مطابق، حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے فراہم کی جانے والی اربوں روپے کی سبسڈی دراصل ایسے منصوبوں پر خرچ کی جا رہی ہے جو تکنیکی طور پر غیر محفوظ اور پرانے نظام پر مبنی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے قومی اہداف بھی متاثر ہوں گے۔
ڈائریکٹر جنرل پامہ عبدالوحید خان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کے باوجود صارفین کو اب بھی بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ ایسی گاڑیاں خریدیں جن میں ناقابلِ اعتماد بیٹریاں نصب ہیں اور جنہیں غلط طور پر جدید ٹیکنالوجی کے نام پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
عبدالوحید خان کے مطابق، پاکستان میں فروخت ہونے والی زیادہ تر الیکٹرک موٹر بائیکس میں لیڈ ایسڈ بیٹریاں نصب ہیں جن پر محض گرافین کوٹنگ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دراصل ایک دھوکہ ہے جسے جدید ٹیکنالوجی کے لبادے میں چھپایا جا رہا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک بار صارفین کو ان جعلی “گرافین بیٹریوں” سے مایوسی ہوئی تو وہ دوبارہ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف رجوع نہیں کریں گے، جس سے حکومت کے تمام ترقیاتی منصوبے اور ماحول دوست پالیسیز متاثر ہوں گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی 122 ارب روپے کی سبسڈی صرف ان کمپنیوں کو دے جو جدید لیتھیئم آئن یا دیگر جدید ٹیکنالوجی کی بیٹریاں استعمال کر رہی ہیں، کیونکہ یہی بیٹریاں طویل عمر، تیز چارجنگ اور زیادہ کارکردگی فراہم کرتی ہیں۔
عبدالوحید خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں جعلی گرافین بیٹریوں کو فروغ دینے والے مفاد پرست عناصر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور مختلف ممالک کے پیداواری اعداد و شمار کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں دو اور تین پہیہ الیکٹرک گاڑیوں کی مجموعی فروخت تقریباً ایک کروڑ یونٹس رہی، جس میں چین، بھارت، ویتنام اور انڈونیشیا سرفہرست رہے۔
ڈی جی پامہ نے زور دیا کہ حکومت گمراہ کن معلومات اور مفاداتی دباؤ میں نہ آئے اور قومی وسائل صرف ثابت شدہ، محفوظ اور پائیدار بیٹری ٹیکنالوجی پر خرچ کرے تاکہ ملکی آٹو انڈسٹری اور صارفین دونوں کا اعتماد برقرار رہے۔



















