رپورٹ کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی باضابطہ درخواست اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) کو جمع کرا دی ہے۔ کمپنی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران گیس کی قیمتوں میں 125 روپے 41 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، جس کے بغیر ادارے کے اخراجات اور نظام کی بحالی ممکن نہیں۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق اس وقت گیس کی ترسیل اور پیداوار کے اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بقایاجات اور نقصانات بھی کمپنی کے مالی بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں۔
کمپنی نے اوگرا سے درخواست کی ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے صارفین کے لیے گیس کی نئی اوسط قیمت 1783 روپے 96 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی جائے۔ اس اضافے کے نتیجے میں گھریلو صارفین سے لے کر صنعتی شعبے تک سب متاثر ہوں گے، خاص طور پر سردیوں میں جب گیس کا استعمال کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اوگرا اس درخواست پر 11 نومبر کو کراچی میں عوامی سماعت کرے گا، جہاں صارفین، ماہرین اور مختلف ادارے اپنی آرا پیش کریں گے۔ یہ سماعت اس لیے بھی اہم تصور کی جا رہی ہے کہ ماضی میں گیس نرخوں کے اضافے پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آتا رہا ہے، جس کے باعث بعض اوقات حکومت کو فیصلے مؤخر یا جزوی طور پر واپس لینے پڑے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں یہ ممکنہ اضافہ نہ صرف عام شہریوں کے اخراجات میں اضافہ کرے گا بلکہ صنعتی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔ پاکستان میں توانائی بحران پہلے ہی شدت اختیار کر چکا ہے، ایسے میں مزید مہنگائی عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی۔
دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی کا موقف ہے کہ اگر نرخوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو کمپنی کو مالی خسارے کا سامنا ہوگا، جس سے گیس سپلائی کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اُدھر شہری حلقے اور صارف تنظیمیں اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومت کو عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے انتظامی اصلاحات اور چوری کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے۔



















