اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے بعد دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔
اکتوبر27 کو سعودی دارالحکومت ریاض میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب نے اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر اتفاق کیا جو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد ثابت ہوگا۔
ملاقات کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ فریم ورک نہ صرف دونوں ممالک کے 8 دہائیوں پر مشتمل تاریخی تعلقات کی تجدید ہے بلکہ اس میں اسلامی اخوت، بھائی چارے اور ترقی کے مشترکہ عزم کی جھلک بھی نمایاں ہے۔
اس معاہدے کا مقصد اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ نئے فریم ورک کے تحت ایسے اسٹریٹجک کے حامل منصوبے شروع کیے جائیں گے جو نجی شعبے کے کردار کو بڑھائیں گے، تجارتی تبادلے میں اضافہ کریں گے اور دونوں ممالک کے کاروباری طبقات کے درمیان مضبوط روابط قائم کریں گے۔ ان منصوبوں میں توانائی، صنعت، کان کنی، آئی ٹی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ جیسے کلیدی شعبے شامل ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی کئی مشترکہ اقتصادی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں بجلی کی ترسیل کے منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔
یہ اقدامات خطے میں توانائی کے تبادلے، اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کریں گے۔
یہ اقتصادی فریم ورک دونوں ممالک کی قیادت کے مشترکہ وژن کی توثیق کرتا ہے جو پائیدار ترقی، تجارتی شراکت داری اور عوامی خوشحالی پر مبنی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ صرف سرکاری سطح پر نہیں بلکہ نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے بھی وسیع مواقع فراہم کرے گا، جس سے باہمی تجارت کے حجم میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ولی عہد محمد بن سلمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئے دور کی معاشی اور تکنیکی ضروریات کے مطابق مزید مضبوط کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی۔پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے آئندہ اجلاس کے جلد انعقاد پر بھی اتفاق کیا تاکہ طے پانے والے فیصلوں پر فوری عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔



















