ایئر کرافٹ انجینیئرز کے جاری احتجاج کے باوجود بھی قومی ایئر لائن کی انتظامیہ فضائی آپریشن کو بحال اور جاری رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ ایئر لائن ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے متبادل انتظامات اور بیک اپ ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں سے مجموعی طور پر 16 مقامی اور بین الاقوامی پروازیں روانہ کر دیں، جس سے آپریشن کو مکمل تعطل سے محفوظ بنا لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج اور بحرانی صورتحال کے باعث ملک بھر میں 12 پروازیں منسوخ کرنا پڑیں، جبکہ قومی ایئر لائن کی 40 سے زائد پروازیں تاخیر اور شیڈول میں بے ترتیبی کا شکار رہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
قومی ایئر لائن کے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ رات انجینیئرز کی جانب سے طیاروں کی کلیئرنس روک کر انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی، جس کا مقصد فضائی نظام کو مفلوج کر کے آپریشنز کو معطل کروانا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اس صورتحال کے باوجود انجینئرنگ شعبے کے سینئر اور کلیدی عملے نے مل کر متبادل اقدامات کے ذریعے فلائٹ آپریشن بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ترجمان کے مطابق غیرقانونی طور پر کام چھوڑنے کے باعث کئی پروازوں کو تاخیر اور کچھ کو منسوخی کا سامنا کرنا پڑا تاہم کئی اہم پروازیں بروقت یا معمولی تاخیر سے روانہ ہو گئیں۔ کراچی سے ٹورنٹو جانے والی پرواز PK-783 اور اسلام آباد سے مانچسٹر کی پرواز PK-701 شیڈول کے مطابق روانہ کی گئیں۔
لاہور سے مدینہ جانے والی پرواز PK-747 کو 14 گھنٹے کی طویل تاخیر کے بعد روانہ کیا گیا، جبکہ کراچی سے جدہ کی پرواز PK-761 بھی 12 گھنٹے تاخیر کے بعد اڑان بھر سکی۔ اسلام آباد سے دبئی کے لیے PK-233 کو 9 گھنٹے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اسلام آباد سے دمام PK-245 اور سیالکوٹ سے ریاض PK-755 سات، سات گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد سے جدہ جانے والی پرواز PK-741 کو چھ گھنٹے اور کراچی سے اسلام آباد جانے والی PK-300 کو چار گھنٹے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ مجموعی طور پر آپریشنل دباؤ اور شیڈول ایڈجسٹمنٹ کے باعث پانچ پروازیں منسوخ کرنا پڑیں، تاہم تمام متاثرہ مسافروں کو متبادل پروازوں کی پیشکش کر دی گئی ہے۔



















