محکمہ موسمیات بلوچستان نے صوبے کے طویل عرصے سے قحط اور خشک سالی کا شکار علاقوں کے لیے خوشخبری دیتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ دسمبر میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشیں ہوں گی۔ اس پیشگوئی نے متاثرہ اضلاع کی عوام میں امید کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک طاقت ور سلسلہ دسمبر کے دوسرے ہفتے یعنی 6 سے 10 دسمبر کے دوران بلوچستان میں داخل ہوگا، جس کے بعد بارشوں کا پہلا طویل اور بھرپور مرحلہ شروع ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں پورے مہینے وقفے وقفے سے جاری رہنے کا بھی امکان رکھتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلۂ بارش سے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، سبی، لسبیلہ، آواران، کیچ، گوادر، پنجگور، خضدار، قلعہ سیف اللہ، چاغی، نوشکی، واشک اور مستونگ سمیت بیشتر قحط زدہ اضلاع کو سیراب ہونے کی قوی امید ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری بھی متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال شمال مغربی ہوائیں معمول سے زیادہ فعال ہیں، جبکہ عرب سمندر سے آنے والی نمی بھی مسلسل بلوچستان کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے یہ بارشیں صرف طویل نہیں بلکہ زرعی اور آبی ذخائر کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔ اس دوران ڈیموں اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری آنے کی بھی توقع ہے۔
پیشگوئی سامنے آنے کے بعد قحط سے متاثرہ کسانوں، چرواہوں اور دیہی آبادیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ متعدد علاقوں میں لوگوں نے مساجد میں شکرانے کے نفل ادا کیے اور دعا کی کہ بارشیں زمین کو سیراب کریں اور ہر طرف ہریالی ہو۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو بارشوں کے دوران احتیاط کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاص طور پر ندی نالوں کے قریب رہنے والے لوگ ہوشیار رہیں، کیونکہ اچانک طغیانی کا خطرہ بھی موجود ہے۔



















