کراچی میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی دل کے مریضوں کے لیے صورتحال مزید تشویشناک بنتی جا رہی ہے اور شہر کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کارڈیک امراض کے کیسز میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں کمی نے نہ صرف پہلے سے دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کی پیچیدگیاں بڑھا دی ہیں بلکہ نئے مریضوں کی تعداد بھی معمول سے زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید اکبر سیال نے گفتگو میں بتایا کہ سردی شروع ہوتے ہی این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی میں مریضوں کا دباؤ تقریباً 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق سانس کی نالیوں میں ہونے والے انفیکشن دل کے مریضوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ انفیکشن براہِ راست دل کی کارکردگی اور دورانِ خون کو متاثر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سیال کے مطابق سرد ہوا میں خون کی نالیاں سکڑنے کے باعث دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اسی وجہ سے سرد موسم میں دل کے دورے، انجائنا اور دیگر شدید تکالیف کے کیسز میں اضافہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسم سرما میں دل کے مریض مختلف وائرسز اور انفیکشن کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ماہرِ امراضِ قلب نے دل کے مریضوں کو سخت احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹھنڈ سے مناسب بچاؤ، گرم کپڑوں کا استعمال اور باہر نکلتے وقت اضافی احتیاط نہایت ضروری ہے۔ اسی طرح بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنا انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ عوامل سردی میں تیزی سے بگڑ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید اکبر سیال نے تجویز دی کہ اگر کسی مریض کو کھانسی، نزلہ، بخار یا سینے میں درد کی علامات محسوس ہوں تو فوراً قریبی اسپتال سے رابطہ کرنا چاہیے کیونکہ بروقت معائنہ اور علاج اس موسم میں زندگی بچانے کے مترادف ہو سکتا ہے۔



















