پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدید دھند نے نظامِ زندگی کو نمایاں طور پر متاثر کر دیا ہے۔ حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث نہ صرف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ روزمرہ معمولات بھی سست روی کا شکار ہیں۔ دھند کے باعث مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
موٹروے حکام کے مطابق دھند کی شدت میں اضافے کے بعد موٹروے ایم دو کو لاہور سے کوٹ سرور تک بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ایم تھری کو رجانہ سے درخانہ تک عارضی طور پر ٹریفک کے لیے معطل کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایم فور کو فیصل آباد سے ملتان تک اور ایم فائیو کو ملتان کے شیر شاہ انٹرچینج سے ظاہر پیر تک بند رکھا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی صورت حال سنگین ہے اور ایم ون پر پشاور سے رشکئی تک ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے، جس کے نتیجے میں طویل دورانیے کی مسافت کرنے والے مسافر بڑی پریشانی میں مبتلا ہیں۔
ادھر پنجاب کے وسطی اضلاع میں فضائی آلودگی کا بحران بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق جمعرات کی صبح نو بجے فضاء میں پارٹیکیولیٹ میٹر کی سطح خطرناک حد تک بلند ریکارڈ کی گئی۔ فیصل آباد میں یہ سطح 814 تک پہنچ گئی، جو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔ گوجرانوالہ میں 404، ملتان میں 261 اور لاہور میں 218 کی ریڈنگ سامنے آئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسموگ اور دھند نے فضائی آلودگی کو انتہائی خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دھند اور اسموگ کے امتزاج نے ٹرانسپورٹ اور صحت دونوں شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ شہریوں کو تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا باقاعدہ استعمال کریں، بخارات سے بچنے کے لیے گرم مشروبات کا استعمال بڑھائیں، اور شدید دھند کے دوران ہیڈلائٹس کو لو بیم پر رکھیں۔
محکمۂ موسمیات نے آئندہ دنوں میں دھند برقرار رہنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔



















