ملک میں آج سونے کی فی تولہ قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد سونے کے نرخ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے روز یعنی پیر کو ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونا مزید مہنگا ہو گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیر کے روز ملک میں چوبیس قیراط کے حامل ایک تولہ سونے کی قیمت میں دو ہزار چھ سو روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت چار لاکھ چونون ہزار آٹھ سو باسٹھ روپے تک جا پہنچی۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہی دن میں ہونے والا یہ اضافہ سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث عام صارفین کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں دو ہزار دو سو انتیس روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد دس گرام سونا تین لاکھ نواسی ہزار نو سو ستر روپے کا ہو گیا۔
سونے کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے نے شادیوں کے موسم میں زیورات خریدنے والی خواتین اور خاندانوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مارکیٹ کے کئی دکانداروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی گاہکوں کی آمد کم تھی، اور نئی قیمتوں نے صورتحال کو مزید متاثر کر دیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت چھبیس ڈالر اضافے کے بعد چار ہزار تین سو پچیس ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔ عالمی منڈی میں اضافے کے اثرات براہ راست مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد چاندی کے نرخ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ فی تولہ چاندی کی قیمت اڑسٹھ روپے اضافے کے بعد چھ ہزار پانچ سو بتیس روپے ہو گئی ہے، جبکہ دس گرام چاندی کی قیمت اٹھاون روپے بڑھ کر پانچ ہزار چار سو ننانوے روپے تک پہنچ گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں دو ہزار روپے کی کمی ہوئی تھی، جبکہ عالمی منڈی میں سونا فی اونس بیس ڈالر سستا ہوا تھا۔



















