سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے پاکستان آنے کے لیے ویزا کی درخواست دے دی ہے اور وہ جنوری میں ملک پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
قاسم اور سلیمان نے انٹرویو میں الزام لگایا کہ ان کے والد کو اڈیالہ جیل میں ’ڈیتھ سیل‘ میں رکھا گیا ہے، جہاں روشنی بمشکل ہوتی ہے، بجلی وقتاً فوقتاً بند کر دی جاتی ہے اور پانی ناقص ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حالات کسی بھی قیدی کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں ہیں اور شدید ذہنی دباؤ کا باعث ہیں۔
یہ انٹرویو ایسے وقت سامنے آیا جب عمران خان کی بہنوں کی جانب سے جیل کے باہر ملاقات نہ ہونے کے خلاف دھرنا دیا گیا، جسے حکام نے واٹر کینن کے ذریعے منتشر کیا۔ قاسم اور سلیمان نے بتایا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد عمران خان نے اپنی دادی لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ کو ماں کا درجہ دیا تھا اور ان کا اس سے بہت قریبی تعلق ہے، جس کے بارے میں وہ جیل میں بھی فکرمند رہتے ہیں۔
انٹرویو میں پوچھے جانے پر کہ عمران خان سے ملاقات میں کیا بات کریں گے، قاسم نے کہا کہ ’یہ ان کی زندگی ہے اور ان کا جنون پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ہے۔ اگر وہ ڈیل کر کے باہر چلے جائیں، تو وہ ہمیشہ اس احساس میں رہیں گے کہ اپنے ملک کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ والد کی زندگی کا مقصد صرف پاکستان کو بہتر بنانا ہے اور وہ کسی بھی صورت میں یہ مقصد ترک نہیں کریں گے۔
سلیمان خان نے بتایا کہ جیل میں موجود حالات انتہائی غیر معیاری اور خوفناک ہیں، اور وہاں کے انتظامات کسی بین الاقوامی قیدی کے معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر والد کی موت سے متعلق افواہیں بہت ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہیں اور ایسے موقع پر وہ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔
قاسم اور سلیمان نے بتایا کہ ان کی بہن عظمیٰ خانم کو حال ہی میں ملاقات کی اجازت ملی، جس کے بعد عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر فوجی قیادت کے خلاف ایک پوسٹ منظرِ عام پر آئی، جسے والد کی ہدایات سے منسلک قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد حکام نے والد کو مزید تنہا کرنے کی کوشش کی۔
بیٹوں نے واضح کیا کہ وہ والد کی رہائی اور بہتر حالات کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم فی الحال انہیں جیل میں قید صورتحال پر شدید تشویش ہے اور وہ والد کی حفاظت اور خوش حالی کے لیے اقدامات کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔



















