اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کے تحت عوام سے وصولیوں کے تازہ تخمینے سامنے آگئے ہیں، جو ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور شہریوں پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو واضح انداز میں ظاہر کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کے لیے پیٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولیاں 1468 ارب روپے تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جبکہ حکومت اب تک صرف ساڑھے پانچ ماہ کے دوران 650 ارب روپے سے زائد رقم وصول کر چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 میں پیٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولیاں 1638 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ 2027-28 میں یہ رقم بڑھ کر 1787 ارب روپے ہونے کی توقع ہے۔
مزید براں مالی سال 2028-29 کے لیے لیوی کی وصولی کا تخمینہ 1989 ارب روپے رکھا گیا ہے، اور 2029-30 میں یہ حجم اضافے کے ساتھ 2212 ارب روپے تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں پاکستانی عوام کو پیٹرولیم لیوی کے بوجھ میں مسلسل اضافہ برداشت کرنا پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے بوجھ کے باعث شہری پہلے ہی معاشی دباؤ میں مبتلا ہیں، اور لیوی میں یہ بڑھتے ہوئے اضافے روزمرہ زندگی کے اخراجات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کی مسلسل بلند شرح مقامی صارفین کی خریداری کی قوت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے اور افراطِ زر کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی یہ بڑھتی ہوئی وصولیاں بجٹ خسارے کو کم کرنے اور ملکی مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کی برداشت اور معاشی نمو کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھنے کے لیے محتاط فیصلے کرے۔



















