کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کی بار بار ٹوٹنے والی مرکزی شاہراہ جہانگیر روڈ کو دو ماہ کے اندر ازسرِنو تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو بہتر اور پائیدار سفری سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے تاخیر کا شکار ترقیاتی منصوبوں پر کھل کر بات کی اور اعتراف کیا کہ ماضی میں ہونے والی کوتاہیوں پر شہریوں سے معذرت خواہ ہیں، کیونکہ مسائل کو تسلیم کیے بغیر بہتری ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ کے ترقیاتی منصوبے سے متعلق درپیش مسائل جولائی تک حل کر دیے جائیں گے، جبکہ کریم آباد انڈر پاس کو بھی جلد مکمل کرنے کے لیے کام کی رفتار تیز کر دی گئی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ غلطیوں کو تسلیم کیے بغیر بحیثیت قوم آگے بڑھنا ممکن نہیں، اسی سوچ کے تحت شہریوں کو حقائق سے آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔
میئر کراچی کے مطابق منور چورنگی انڈر پاس جون کے مہینے میں مکمل ہو جائے گا، جبکہ شہر کی مجموعی بہتری کے لیے 46 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے مختلف مراحل میں زیرِ عمل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں نئے پارکس، اربن فارسٹ اور قبرستان قائم کیے جائیں گے، جبکہ قبرستانوں کے لیے درکار زمین وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے منفی پروپیگنڈے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی مہم دراصل شہر سے دشمنی کے مترادف ہے، کیونکہ اس کا نقصان کسی ایک فرد یا ادارے کو نہیں بلکہ پورے کراچی کو ہوتا ہے۔
میئر کراچی نے مزید بتایا کہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیز اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈزیز کے درمیان شراکت داری کے لیے حکومت کو آمادہ کر لیا گیا تھا، تاہم بعض عناصر کی وجہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی صحت اور سہولت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور رکی ہوئی ترقیاتی اسکیموں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں جاری ہیں۔



















