اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات کا مقصد محض دباؤ ڈالنا ہے، تاہم وہ ایسے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ اگر ملک میں عدلیہ واقعی آزاد ہوتی تو بانی پی ٹی آئی آج جیل میں نہ ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کل ایک بجے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچیں گی، جہاں شہدا اور غیر قانونی گرفتاریوں کے حوالے سے سورہ یاسین کا ختم بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عوام کے ووٹ کا حق ختم کیا گیا، جبکہ مرضی کے ججز تعینات کر کے سزائیں سنائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر لگائے گئے الزامات کا مقصد صرف بانی پی ٹی آئی کا پیغام عوام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ اگر انہیں ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو وہ جیل کے باہر سڑک پر بیٹھ کر انتظار کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ چوری کرنے والوں پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ پنجاب حکومت ایک خوف زدہ حکومت ہے جس نے عوامی مینڈیٹ چوری کر کے اقتدار پر قبضہ کیا۔
انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ پرامن جدوجہد جاری رکھیں، کیونکہ بانی پی ٹی آئی کے مطابق جدوجہد عبادت ہے، اور ملک میں عدلیہ کی آزادی کے لیے اس جدوجہد کو جاری رکھنا ناگزیر ہے۔



















