اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے یکم جنوری سے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی درخواست پر یہ فیصلہ مرتب کیا، جس کے تحت بجلی کے اوسط بنیادی نرخ میں فی یونٹ 1 روپے 79 پیسے اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو باضابطہ منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
نیپرا کے اعلامیے کے مطابق جنوری 2026 سے بجلی کا اوسط قومی بنیادی ٹیرف 33 روپے 38 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں نافذالعمل بجلی کا اوسط بنیادی ٹیرف 31 روپے 59 پیسے فی یونٹ ہے، جس کے مقابلے میں نیا متعین کردہ ٹیرف واضح طور پر زیادہ ہے۔ اس طرح نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ نیا بنیادی نرخ موجودہ ٹیرف سے 1 روپے 79 پیسے فی یونٹ زائد بنتا ہے، جو صارفین کے ماہانہ بلوں پر اضافی مالی دباؤ ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے یہ اوسط بنیادی ٹیرف پہلے سے مقررہ 34 روپے فی یونٹ کے تخمینے سے 62 پیسے کم رکھا گیا ہے۔ نیپرا کے مطابق اس کمی کے باوجود مجموعی طور پر بجلی کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا کیونکہ توانائی کے شعبے کی مجموعی مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سال 2026 کے لیے ڈسکوز کی مجموعی مالی ضرورت کا تخمینہ 3379 ارب روپے لگایا گیا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے ٹیرف میں ردوبدل ضروری سمجھا گیا۔ نیپرا کے اعلامیے کے مطابق ان مالی ضروریات میں سب سے بڑا حصہ بجلی کی خریداری کی قیمت کا ہے، جس کا تخمینہ 2923 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 456 ارب 15 کروڑ روپے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اخراجات اور منافع کی مد میں شامل کیے گئے ہیں۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو برقرار رکھنے، آپریشنل اخراجات پورے کرنے اور کمپنیوں کی مالی پائیداری کے لیے ان اخراجات کو ٹیرف میں شامل کرنا ضروری تھا۔
اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سال 2026 میں بجلی کی سالانہ فروخت کا تخمینہ 101 ارب یونٹس لگایا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے الگ الگ ٹیرف مقرر کیا گیا ہے، تاہم نیپرا کے مطابق یکساں ٹیرف کے نفاذ سے متعلق درخواست دائر کرنے کے لیے فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔



















