اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں مقامی حکومت کے نظام میں نمایاں اور اہم تبدیلیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ آرڈیننس کے اجرا کے ساتھ ہی اسلام آباد میں بلدیاتی ڈھانچے کو نئے خطوط پر استوار کرنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس نافذ العمل ہو گیا ہے۔ آرڈیننس کے تحت قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی، جبکہ موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ختم کر دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئرز تعینات کیے جائیں گے۔ آرڈیننس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یونین کونسلز کی مجموعی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کرے گی، جبکہ ہر یونین کونسل نو جنرل کونسلرز اور چار مخصوص نشستوں پر مشتمل ہوگی۔
آرڈیننس کے مطابق اسلام آباد میں قائم ہونے والی تمام ٹاؤن کارپوریشنز کی مدت چار سال مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران منتخب نمائندے شہری سہولیات اور بلدیاتی امور کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور مقامی سطح پر انتظامی امور کو مؤثر بنانا ہے۔



















