اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے اوسط بنیادی ٹیرف میں کسی قسم کا اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو آئندہ بھی بجلی موجودہ نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ حکومتی فیصلے کا مقصد مہنگائی کے دباؤ میں کمی لانا اور عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں رد و بدل نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں ہونے والی سماعت کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سبسڈی کو مؤثر انداز میں ایڈجسٹ کر لیا گیا ہے، جس کے بعد بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
پاور ڈویژن حکام کا کہنا ہے کہ جولائی سے اب تک ملک کے انرجی مکس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کے باعث بجلی کی مجموعی لاگت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کی بدولت پیداواری لاگت میں توازن پیدا ہوا اور ٹیرف میں اضافے سے بچاؤ ممکن ہوا۔
حکام نے واضح کیا کہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ بجلی صارفین پر کسی بھی قسم کا اضافی بوجھ منتقل نہیں کیا جائے گا اور تمام کیٹیگریز کے صارفین کے لیے بجلی کے نرخ موجودہ سطح پر برقرار رکھے جائیں گے۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت ملک بھر میں تمام اقسام کے بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 629 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ عوام کو نسبتاً سستی بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور توانائی کے شعبے میں استحکام برقرار رہے۔



















