کراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر حکومت سندھ نے اہم اعلانات کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا جب کہ متاثرہ دکانداروں اور کاروبار کی بحالی کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ میں پیش آنے والا واقعہ نہایت دلخراش اور افسوسناک ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شہر کے بیشتر لوگ کسی نہ کسی وقت خریداری کے لیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آگ رات تقریباً سوا 10 بجے کے قریب لگی، تاہم تاحال آگ لگنے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق شارٹ سرکٹ کا امکان موجود ہے، مگر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن اب بھی تقریباً 10 فیصد حصے میں آگ کے اثرات موجود ہیں جب کہ عمارت کے اندر داخلے کے راستے انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فائر سیفٹی آڈٹ 2024 پر فوری اور سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس میں شہر کی 145 عمارتوں کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔ اس حوالے سے حکومت اور تاجر برادری دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس میں ڈی آئی جی کراچی معاونت فراہم کریں گے جب کہ فارنزک تجزیے کے لیے لاہور کی لیبارٹری سے بھی مدد لی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ انکوائری کسی کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ نظام کی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کے لیے کی جا رہی ہے، تاہم اگر کسی قسم کی تخریب کاری یا غفلت ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی ضرور کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات میں قیاس آرائیوں اور مبالغہ آرائی سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آگ بجھانے کے عمل میں 24 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 باؤزر اور 4 اسنارکلز شامل تھیں جب کہ کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کے مجموعی طور پر 200 فائر فائٹرز نے آپریشن میں حصہ لیا۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں گل پلازہ سانحے سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، میئر کراچی، چیف سیکریٹری، کمشنر کراچی، ضلعی انتظامیہ اور تاجر نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس واقعے سے درجنوں خاندان متاثر ہوئے ہیں اور سیکڑوں افراد راتوں رات بے روزگار ہو گئے، حکومت کی اولین ترجیح متاثرین کی فوری بحالی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں قائم تھیں، جس کا مطلب ہے کہ 1200 سے زائد خاندان اس سانحے سے متاثر ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ گل پلازہ کی عمارت دوبارہ تعمیر کی جائے گی اور متاثرہ دکانداروں کو عارضی یا متبادل دکانیں فراہم کرنے کے لیے ایک کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی۔
کمشنر کراچی کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 14 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، آگ بجھانے کے بعد کولنگ کا عمل جاری ہے اور ملبہ اٹھانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس سانحے میں شہید ہونے والا فائر فائٹر ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جہاں اس کے والد بھی اسی پیشے میں شہید ہوئے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود شہدا کے گھروں میں جا کر تعزیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ طویل المدتی فائر فائیٹنگ اور حفاظتی اقدامات پر مشتمل جامع منصوبہ تیار کر کے اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا تاکہ آئندہ اس نوعیت کے سانحات سے بچا جا سکے۔



















