امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو گل پلازہ سانحے پر فوری استعفیٰ دینا چاہئیے تھا۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر منعم ظفر خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ سانحے کو پانچ دن گزر جانے کے باوجود صرف 61 لاشیں نکالی جا سکیں ہیں، جس سے صوبائی حکومت کی نااہلی اور انتظامی خامیاں عیاں ہو گئی ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کے لیے مختص 60 فائر ٹینڈرز اور پانچ اسنارکلز دستیاب ہیں، مگر فائر پروٹیکٹڈ یونیفارم اور دیگر حفاظتی سامان کہیں نظر نہیں آتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ واقعے کے 18 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے جبکہ میئر کراچی دوسرے روز آئے، آر جے مال، صدر اور دیگر مقامات پر لگنے والی آگ کے وقت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں تھی اور عمارتوں میں فائر فائٹنگ سسٹمز اور الارمز کیوں موجود نہیں تھے۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ سانحہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور متاثرہ دکانداروں کو فوری معاوضہ دیا جائے اور انہیں متبادل کاروباری جگہ فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے ایک شفاف کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ نقصان کی مکمل تحقیقات ہو سکیں، جماعت اسلامی کے والینٹئرز جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور جاں بحق افراد کے بچوں کی کفالت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
منعم ظفر خان نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو کراچی کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ شہر میں اسٹریٹ کرمنلز آزاد گھوم رہے ہیں، گزشتہ برس 45 ہزار وارداتیں ہوئیں، جبکہ شہری پانی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی مسائل سے بھی دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری میں 259 افراد کو جلا دیا گیا اور اس شہر کے ساتھ ہونے والے سلوک کا حساب ہر ادارے کے سامنے ہونا چاہیے، کراچی اب خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے غزہ بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ قومی مفاد کے خلاف ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ سربراہ ہوں گے، پوری قوم اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے اور پاکستانی فوج کو غزہ نہیں جانا چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وفاق فوراً بورڈ سے دستبردار ہو جائے، کیونکہ یورپی ممالک نے اس میں شمولیت سے منع کیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یکم فروری کو “جینے دو کراچی مارچ” کا انعقاد کیا جائے گا۔
منعم ظفر خان نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور شہر کے مستقبل کے لیے آواز بلند کریں۔



















