گردوں کے دائمی امراض کو دنیا بھر میں خاموش قاتل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ بیماری بظاہر آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اثرات نہایت سنگین اور جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین طویل عرصے سے اس بات پر متفق رہے ہیں کہ گردوں کے مریضوں کی بڑی تعداد براہ راست گردوں کی خرابی کے بجائے دل کے امراض کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہے، تاہم اس خطرناک تعلق کی اصل وجہ ایک معمہ بنی رہی۔ اب امریکا کی ورجینیا یونیورسٹی کے ہیلتھ سسٹم کی تازہ تحقیق نے اس پراسرار ربط کی واضح سائنسی وضاحت پیش کر دی ہے۔
تحقیق میں تفصیل سے یہ جائزہ لیا گیا کہ گردوں کے دائمی امراض میں مبتلا افراد کو دل کی بیماریوں کا خطرہ غیر معمولی حد تک کیوں لاحق ہو جاتا ہے۔ ماہرین نے دریافت کیا کہ جیسے ہی گردوں کو نقصان پہنچنا شروع ہوتا ہے، وہ کچھ مخصوص مادے خارج کرنے لگتے ہیں جو خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں اور براہِ راست دل کے پٹھوں اور بافتوں کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ دل کی کارکردگی کمزور ہونے لگتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق لیبارٹری میں کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی کہ بیمار گردے نہایت باریک ذرات خارج کرتے ہیں، جنہیں عام حالات میں جسم کے اندر پیغام رسانی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ذرات عام طور پر پروٹین اور دیگر مفید اجزا خلیات تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں، مگر جب گردے دائمی بیماری کا شکار ہوں تو یہی ذرات زہریلے مادوں کو دل تک منتقل کرنے لگتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی زہریلا مواد دل کے ٹشوز میں سوزش، کمزوری اور بالآخر دل کے ناکارہ ہونے جیسی خطرناک کیفیت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ تحقیق کے دوران چوہوں پر کیے گئے تجربات میں جب ان نقصان دہ ذرات کے اخراج کو روکا گیا تو دل کے افعال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
سائنس دانوں کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں دل کی کمزوری کی علامات میں واضح کمی آئی اور دل کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوئی۔ اس کے بعد گردوں کے دائمی امراض میں مبتلا مریضوں اور صحت مند افراد کے خون کے نمونوں کا موازنہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ زہریلے مادوں سے بھرے یہ ذرات صرف مریضوں کے خون میں موجود تھے، جبکہ صحت مند افراد میں ان کا کوئی نشان نہیں ملا۔
محققین کا کہنا ہے کہ طب کی دنیا میں طویل عرصے سے یہ سوال موجود تھا کہ گردے اور دل ایک دوسرے سے کس طرح رابطہ رکھتے ہیں۔ اس تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ننھے ذرات گردوں سے دل تک ایک خاموش مگر انتہائی مہلک پیغام پہنچاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان نتائج کی بنیاد پر مستقبل میں ایسے خون کے ٹیسٹ تیار کیے جا سکیں گے جن کے ذریعے گردوں کے مریضوں میں دل کے شدید امراض کے خطرے کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔ یہ تحقیق طبی جریدے سرکولیشن میں شائع ہوئی ہے، اور ماہرین کے نزدیک یہ دریافت نہ صرف گردوں کے مریضوں کے علاج میں انقلابی ثابت ہو سکتی ہے بلکہ دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔



















