کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کو پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی میتوں اور باقیات کی سپردگی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جس سے متاثرہ خاندانوں کو کسی حد تک تسلی ملی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ گل پلازہ کے بعد مزید 12 جاں بحق افراد کی باقیات کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد ان افراد کی باقیات قانونی کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
سی پی ایل سی ذرائع نے بتایا کہ اینٹی موٹم ڈیٹا کی مدد سے خضر علی، حیدر علی، عامر علی، ابو بکر، یاسین، صداقت اللہ، یوسف خان، نعمت اللہ اور عبد اللہ سمیت دیگر افراد کی شناخت ممکن بنائی گئی۔ شناخت کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ان 12 افراد کی باقیات ایدھی سردخانے سے باضابطہ طور پر لواحقین کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
سی پی ایل سی حکام کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا کے ساتھ ساتھ گل پلازہ میں موجود پروف آف پریزنس کے ریکارڈ کی بنیاد پر کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ نارتھ ناظم آباد سے شاپنگ کے لیے آنے والے ایک خاندان کے تین افراد کی شناخت بھی کر لی گئی ہے، جن میں عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور ان کا بیٹا علی شامل ہیں۔
حکام نے وضاحت کی کہ بعض لاشیں انتہائی خستہ حالت میں ہونے کے باعث ڈی این اے کے نتائج حاصل نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے شناخت کے عمل میں مشکلات پیش آئیں۔ تاہم گھڑی، انگوٹھی، بٹوہ اور دیگر ذاتی اشیاء کی مدد سے دو مزید لاشوں کی شناخت کی گئی، جو دکاندار ابو بکر اور ان کے ملازم عامر کی تھیں، جنہیں ابو بکر کے بیٹے تاج نے شناخت کیا۔
سی پی ایل سی کے مطابق ایک ہی خاندان کے تین افراد نعمت اللہ، عبد اللہ اور یوسف خان کی شناخت بھی مکمل کر لی گئی ہے، جن کی میتوں کی تصدیق ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ نعمت اللہ اور عبد اللہ سگے بھائی تھے جبکہ یوسف خان ان کا کزن تھا۔
ذرائع کے مطابق گل پلازہ کے اس افسوسناک سانحے میں اب تک 39 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں 20 افراد کی شناخت ڈی این اے، 6 کی چہرہ شناسی اور ایک کی شناخت قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر اس واقعے میں 79 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔



















