متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں کمی کے بعد شہریوں اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے اپنے زیورات فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ قیمتوں میں اس غیر متوقع اتار چڑھاؤ نے مقامی گولڈ مارکیٹ میں سرگرمی کو مزید تیز کر دیا ہے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق جب سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد نیچے آئیں تو دبئی کے معروف گولڈ سوک میں فروخت کنندگان کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد نے قیمتوں میں کمی کو فروخت کے لیے موزوں وقت قرار دیا اور اپنے زیورات مارکیٹ میں لے آئے۔
رپورٹ کے مطابق کئی شہریوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی اور نئی جائیداد کی خریداری کے لیے زیورات فروخت کیے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سونے کی بلند قیمتوں کے دوران خریدے گئے زیورات اب فروخت کر کے مالی دباؤ کم کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض افراد مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے نقد رقم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
خلیج ٹائمز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں حالیہ ہفتوں کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخی سطح تک پہنچ گئی تھیں، تاہم اچانک کمی کے بعد مارکیٹ میں فروخت کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث گولڈ مارکیٹ میں مجموعی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے اور خریداروں کے ساتھ ساتھ فروخت کنندگان کی تعداد میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔



















