اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ کے مرکزی گیٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب امام بارگاہ کے اندر اور باہر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اطراف میں کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور کی لاش کے اعضا امام بارگاہ کے اندر موجود پائے گئے، جس سے دھماکے کی نوعیت خودکش ہونے کی تصدیق کا امکان بڑھ گیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں و لاشوں کو نکال کر قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی علاقے میں پہنچ گئے اور سیکورٹی سنبھال لی گئی۔
دھماکے کے بعد اسلام آباد کے بڑے اسپتالوں، جن میں پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال شامل ہیں، میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹس کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
زخمیوں اور لاشوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے پمز اور پولی کلینک منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز اور طبی عملہ ہنگامی بنیادوں پر علاج میں مصروف ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوع پر پہنچ کر دھماکے کی نوعیت اور اس میں استعمال ہونے والے مواد سے متعلق تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
واقعے کے بعد دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سیکورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔



















