کراچی: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے جاں بحق افراد کے ورثا سے ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے۔
کمیشن نے کراچی میں متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، اس موقع پر سربراہ کمیشن جسٹس آغا فیصل نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں اور کمیشن نے کارروائی کا آغاز آپ سے ملاقات کے ذریعے کرنا مناسب سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعے پر ہمیں دلی دکھ ہے۔
جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ کمیشن کے قیام کا مقصد مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کرنا ہے۔ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے لیکن انسانی جان کا نعم البدل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ورثا کے لیے چند سوالات تیار کیے گئے ہیں اور حقائق تک رسائی کے لیے ان کی معاونت درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ لواحقین چاہیں تو موقع پر یا ہائیکورٹ آ کر اپنے بیانات ریکارڈ کرا سکتے ہیں، جبکہ دیگر متاثرین سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ سامنے آ کر معلومات فراہم کریں۔ کمیشن عوام، حکومت اور ریسکیو ورکرز سمیت تمام متعلقہ فریقین سے شواہد اکٹھے کر رہا ہے تاکہ جامع رپورٹ تیار کی جا سکے۔
ملاقات کے دوران سانحے میں جاں بحق شہری عبدالحمید کی والدہ نے بتایا کہ رات ساڑھے دس بجے بیٹے سے بات ہوئی تھی، اس نے کہا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے اور وہ واپس آ رہا ہے، تاہم ایک بچے کو بچانے کی کوشش میں رک گیا، بعد ازاں ہمیں اس کی لاش ٹکڑوں میں ملی۔



















