اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اقدامِ قتل سمیت پانچ مقدمات میں فوری گرفتاری سے روک دیا ہے، جس کے بعد انہیں عارضی قانونی ریلیف حاصل ہو گیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم سابق وفاقی وزیر محسن شاہنواز رانجھا کو مبینہ طور پر قتل کرنے کی کوشش کے کیس سمیت دیگر مقدمات کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 18 فروری تک عبوری قانونی تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سماعت کے دوران ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک گرفتاری سے روکنے کا حکم برقرار رکھا۔ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث مقدمات پر تفصیلی دلائل پیش نہیں کیے جا سکے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر انہیں ذاتی حیثیت میں یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
عدالتی کارروائی کے دوران وکیل سلمان صفدر پیش نہ ہو سکے، تاہم معاون وکلا خالد یوسف چوہدری اور شمسہ کیانی نے مؤقف پیش کیا۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے واقعات، اقدامِ قتل اور مبینہ جعلی رسیدوں سمیت متعدد مقدمات درج ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی جعلی رسیدیں جمع کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔



















