اسلام آباد: ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے اہم مذاکرات کا انعقاد پاکستان کے دارالحکومت میں کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سفارتی پیش رفت کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ اور کلیدی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اہم نشست میں میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جن کے ہمراہ سینئر سفارت کار اسٹیو وٹکوف اور سابق مشیر جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وفد میں وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی شرکت متوقع ہے جو پابندیوں اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات اٹھائیں گے۔
پاکستان اس تاریخی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ ان اہم مذاکرات کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔ وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ ترین سفارتی حکام اور سیکیورٹی ماہرین شریک ہوں گے۔
بین الاقوامی سطح کی اہمیت کے حامل ان مذاکرات میں چین، سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ کے نمائندے بطور مبصر شریک ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک کی موجودگی اس عمل کو مزید متوازن اور موثر بنانے میں مدد دے گی تاکہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ سکے۔
مذاکرات کے ایجنڈے میں فوری جنگ بندی کا لائحہ عمل، انسانی بحران کا تدارک اور علاقائی سلامتی کے اہم نکات شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے اپنے مطالبات پر مبنی ڈرافٹ پیش کیا جائے گا، جس پر اقوام متحدہ کے مبصرین کی موجودگی میں غور و خوض کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت کامیاب رہتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگی۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ خطے میں دیرپا امن کے روشن امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
واضح رہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک کی جانب سے وفود کی حتمی فہرست جاری نہیں کی گئی، تاہم عالمی طاقتوں کی بھرپور دلچسپی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ عالمی برادری اس پیش رفت کو خطے میں امن کی ایک بڑی امید کے طور پر دیکھ رہی ہے۔



















