وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار خوش آئند ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان 2002 سے اس بات پر زور دیتے آ رہے تھے کہ پاکستان کو ہمیشہ امن کے قیام میں کردار ادا کرنا چاہیے، اور اب اسی پالیسی پر عملدرآمد ہو رہا ہے جسے دنیا بھر میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ سب کا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان سے متعلق مذاکرات کیے جائیں تو مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ قومی پالیسی کے تحت افغان مہاجرین کو عزت اور وقار کے ساتھ واپس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تنقید برائے اصلاح کے اصول پر کام کرنا چاہیے، تاہم ان کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آنکھ کا مسئلہ موجود ہے اور علاج الشفا اسپتال میں نہیں ہو رہا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی کی موجودگی میں اس اسپتال میں کیا جائے جہاں ان کے اہل خانہ چاہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ایک پیغام بھی موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے سیاسی اسپیس ہونا چاہیے، اور جو ان کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتا وہ الگ راستہ اختیار کرے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ میں جلد توسیع کی جائے گی، تاہم اس کے بغیر بھی محکموں میں کام جاری ہے، اور ملاکنڈ ڈویژن میں سول بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا۔



















