واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے بعد ایران اپنا تیل فروخت نہیں کر سکے گا، اور یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے دفاعی اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے عالمی برادری سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث امریکا نے سخت فیصلہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ ایران کی تیل برآمدات کو روکا جا سکے اور اس پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی بحری جہاز ایران کو غیر قانونی طور پر ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں ‘محفوظ راستہ’ فراہم نہیں کیا جائے گا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس فیصلے کے بعد سمندری سرگرمیوں پر بھی سخت نگرانی کی جائے گی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے یا نہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ناکہ بندی کے اعلان کے فوراً بعد عالمی سمندری حدود میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، اور مختلف ممالک کی بحری نقل و حرکت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کئی تیل بردار جہازوں نے آبنائے ہرمز کے متاثرہ حصوں سے نکلنا شروع کر دیا ہے، جبکہ عراق سے تیل لے کر روانہ ہونے والا مالٹا کا ایک بڑا بحری جہاز امریکی اعلان کے بعد واپس مڑ گیا اور اس وقت خلیج عمان میں لنگر انداز ہے، جو اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران پر معاشی دباؤ میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ اسے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کیا جا سکے۔



















