سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک بڑے ایونٹ کے ذریعے پاکستان اور اس کے گرین پاسپورٹ کی اہمیت عالمی سطح پر اجاگر ہوئی ہے، اور اس پیش رفت نے ملک کے مثبت تشخص کو مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ انہوں نے صدر پاکستان، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو اس کامیابی پر مبارکباد بھی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی عالمی سفارتی سطح پر پاکستان کی مضبوط پوزیشن اور برتری کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ بھارت اس صورتحال پر شدید ردعمل کا شکار نظر آ رہا ہے، اور اس کے اثرات اس کے میڈیا اور بیانیے میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور “معرکۂ حق” کے ذریعے بھی ملک کو کامیابی حاصل ہوئی، جس کے باعث بھارتی میڈیا میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف سوشل اینڈ الیکٹرانک میڈیا کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی اور مختلف قومی و ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ اس بات کی عکاس ہے کہ وہ ہمیشہ عوامی فلاح و بہبود اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی پر یقین رکھتی ہے، اور اسی وژن کے تحت مختلف منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے اہم ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اکیس لاکھ خاندانوں کو گھر فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ سندھ حکومت نے بینظیر ہاری کارڈ بھی متعارف کرایا ہے تاکہ چھوٹے کاشتکاروں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ گندم کی کاشت میں کمی کے پیش نظر سندھ حکومت نے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈی اے پی اور یوریا کی بوریاں فراہم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ برساتوں سے متاثرہ فصل کے لیے ادویات بھی دی گئیں، اور اس سال گندم کی پیداوار کو بمپر کراپ قرار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت گندم کی کٹائی کا عمل جاری ہے اور حکومت سندھ نے تین لاکھ سے زائد چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ پندرہ سو روپے فراہم کیے ہیں، اور یہ واحد سندھ حکومت ہے جس نے کاشتکاروں کو براہ راست مالی معاونت فراہم کی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ سرکاری اور نجی ٹرانسپورٹ میں مسافروں کے لیے سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو، جبکہ موٹر سائیکل چلانے والے افراد کے لیے بھی فی کس دو ہزار روپے دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اور یہ رقم سندھ بینک کے ذریعے تقسیم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انٹر سٹی اور انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کو بھی سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ پنک اسکوٹیز کی فراہمی کا آغاز کراچی سے کیا گیا ہے اور سکھر و حیدرآباد میں بچیوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، جنہوں نے ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل کر لیے ہیں، اور جلد ان شہروں میں اسکوٹیز کی تقسیم شروع کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ شکارپور، سکھر، خیرپور اور حیدرآباد میں پیپلز بس سروس کے نئے روٹس بھی جلد شروع کیے جائیں گے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ کی اولین ترجیح تمام شعبوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی ہدایات کے مطابق ہر شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔
صحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک بیماری ہے جس سے بچاؤ صرف بروقت ویکسینیشن کے ذریعے ممکن ہے، اسی لیے ایک جامع آگاہی مہم شروع کی گئی ہے، اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہر بچہ محفوظ رہ سکے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالیہ صورتحال بھارت کے لیے ایک امتحان ثابت ہوئی ہے، جبکہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا مثبت کردار مزید مضبوط کر رہا ہے، اور خارجہ تعلقات کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے شعبے میں بھی بہتری لا رہا ہے، جس کے باعث ملک ایک مضبوط اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو خطے میں استحکام چاہتا ہے، اور عالمی سطح پر بھی اسی شناخت کے ساتھ اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے بیانیے کی مؤثر تشہیر کے لیے وفاق، سندھ اور پنجاب مل کر کام کر رہے ہیں، اور لندن فیسٹیول میں سندھ حکومت کا پہلا پراجیکٹ “میرا لیاری” پیش کیا جائے گا۔
تیل کی قیمتوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان میں اضافہ یا کمی عالمی منڈی سے جڑی حقیقت ہے، اور حکومت بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے، جبکہ عوام کو بھی ان حالات کو سمجھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں کرایوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا، اور ٹرانسپورٹرز حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ مقررہ کرایوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔



















