فلسطین میں قیام امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کو مسلم ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا تعطل ترسیل، جبری بے دخلی کی روک تھام اور خطے میں امن عمل کو آگے بڑھانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں مسلم ممالک نے صدر ٹرمپ کی اس یقین دہانی کو خوش آئند قرار دیا کہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلم ممالک امریکا اور دیگر عالمی فریقین کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ اس معاہدے کو حتمی شکل دے کر عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
اس منصوبے میں غزہ کی تعمیر نو، انسانی امداد کی فراہمی، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور دو ریاستی حل کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کو شامل کیا گیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔



















