وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے کے چھوٹے شہروں کی ترقی ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور دسمبر تک پورے پنجاب میں 1500 گرین بسیں سڑکوں پر دوڑ رہی ہوں گی۔
پاکپتن میں الیکٹرک بسوں کی فراہمی کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’’ستھرا پنجاب‘‘ پروگرام نے ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پورے صوبے میں صفائی، سیوریج، صاف پانی اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے انقلابی منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکپتن اب پہلے سے زیادہ صاف، سرسبز اور خوبصورت دکھائی دیتا ہے، اور ان کی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے تمام چھوٹے شہر بڑے شہروں کی طرح جدید سہولتوں سے آراستہ ہوں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کی توجہ خاص طور پر ان علاقوں پر ہے جہاں عوام بنیادی سہولتوں کے زیادہ مستحق ہیں۔
مریم نواز نے بتایا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 35 ہزار مشینیں خریدی جا چکی ہیں، جن کے ذریعے صوبے بھر میں صفائی کے کام بلاتفریق جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بسوں میں ایئرکنڈیشن، مفت وائی فائی اور خواتین کے لیے علیحدہ نشستوں کی سہولت موجود ہے تاکہ خواتین کو دورانِ سفر آرام اور تحفظ حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پبلک ٹرانسپورٹ صرف لاہور، راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور تک محدود تھی، لیکن اب 1100 نئی گرین بسیں پنجاب کے تمام شہروں میں صرف 20 روپے کرایہ کے عوض سفری سہولت فراہم کریں گی۔ مزید بتایا کہ دسمبر تک 1500 بسیں مکمل طور پر فعال ہوں گی جبکہ اپریل اور مئی میں مزید 500 بسیں شامل کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تین ماہ میں تمام روٹس پر معیاری بس اسٹاپس قائم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو آرام دہ انتظار گاہیں فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب ڈیولپمنٹ پلان کے تحت جہاں سیوریج کا نظام ناکارہ ہے، وہاں نئی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں اور زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بھی جاری ہیں تاکہ بارش کے دوران مشکلات نہ ہوں۔ ان کے مطابق واسا اب صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ 25 شہروں میں مکمل آپریشنل ہے، جہاں بارش کے چند گھنٹوں میں پانی نکال دیا جاتا ہے۔
مریم نواز نے بتایا کہ دیہی ترقی کے لیے ہر گاؤں میں 25 کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں، گزشتہ سال 20 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوئی، اور اس سال اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ دیہات شہروں سے منسلک ہوں۔
وزیراعلیٰ نے ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صرف سات سے آٹھ ماہ میں 90 ہزار گھروں کی تعمیر جاری ہے اور آئندہ پانچ سالوں میں پانچ سے سات لاکھ خاندانوں کو اپنے گھر فراہم کیے جائیں گے۔ مزید کہا کہ 14 لاکھ خاندانوں کو راشن کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں جنہیں ہر ماہ تین ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔
صحت کے حوالے سے مریم نواز نے کہا کہ ساہیوال کارڈیالوجی سینٹر میں جدید کیتھ لیب قائم ہوچکی ہے، سرگودھا میں بھی جدید علاج کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ لاہور میں 1000 بستروں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا کینسر اسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پورے پنجاب کے نادار مریضوں کا علاج مفت کیا جائے گا جس کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ راولپنڈی، ملتان اور نواز شریف کینسر اسپتالوں کے لیے بھی جدید مشینری منگوائی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چند ماہ میں پنجاب کے 25 اضلاع زیرو کرائم زون قرار پا چکے ہیں، اب خواتین اور بچے بلا خوف و خطر گھروں سے باہر جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کسان کارڈ کے تحت ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جا رہا ہے اور کھاد پر تاریخی سبسڈی کی تیاری جاری ہے۔ تمام ترقیاتی پروگرام — چاہے وہ ستھرا پنجاب ہو، صاف پانی، کسان کارڈ یا ٹریکٹر اسکیم — پورے صوبے میں بلا تفریق جاری ہیں۔
سیلاب متاثرین کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حالیہ بدترین سیلاب کے دوران حکومت نے ڈھائی ملین افراد اور دو ملین مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، اور بارہ لاکھ سے زائد متاثرین کو علاج اور ادویات فراہم کی گئیں۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ن، م، ش کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ن، م، ش ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہیں اور ایسے عناصر ہمیشہ کی طرح ناکامی کا سامنا کریں گے۔



















