کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں نئے سال کی آمد پر کی گئی ہوائی فائرنگ نے ایک بار پھر شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا، جہاں صرف کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پیشگی حفاظتی انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات کے باوجود شہر کے متعدد علاقوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔
پولیس اور ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں کمسن بچیاں اور خواتین بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق کورنگی، گولیمار، فائیو اسٹار، نیو سبزی منڈی اور دیگر علاقوں میں جشن کے نام پر کی گئی اندھا دھند ہوائی فائرنگ کے باعث شہری گولیوں کا نشانہ بنے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران ہوائی فائرنگ میں ملوث 56 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
ادھر کراچی کے علاوہ اندرونِ سندھ میں بھی نئے سال کا جشن خون آلود ثابت ہوا، جہاں حیدرآباد میں ہوائی فائرنگ کے واقعات کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے، جبکہ نواب شاہ میں 2 شہری گولی لگنے سے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد متعلقہ علاقوں میں پولیس نے سرچ آپریشن تیز کر دیا۔
واضح رہے کہ نئے سال کے موقع پر محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے کراچی میں اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات سامنے آئے۔
پولیس حکام کے مطابق ہوائی فائرنگ کرنے والوں کی نشاندہی اور ٹھوس شواہد اکٹھا کرنے کے لیے ڈرون کیمروں کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں لیاقت آباد، شریف آباد، عزیزآباد، ناظم آباد اور دیگر حساس علاقوں میں ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی، جبکہ فائرنگ میں ملوث افراد کی ویڈیوز ریکارڈ کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ شہر کے 16 سے زائد تھانوں کو ڈرون کیمرے فراہم کیے جا چکے ہیں تاکہ ایسے عناصر کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ جیسے جان لیوا عمل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔



















