دنیا بھر میں جیو پولیٹیکل صورتحال میں بگاڑ کے اثرات اب عالمی مالیاتی منڈیوں پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں، جہاں غیر یقینی حالات کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رخ کر لیا ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتیں عالمی اور مقامی سطح پر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس نے نہ صرف تاجروں بلکہ عام خریداروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی منڈی میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 9 ڈالر بڑھ کر 4 ہزار 595 ڈالر کی نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئی۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری کشیدگی، بڑی معیشتوں کے درمیان تناؤ اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو سونے کی جانب تیزی سے متوجہ کیا ہے۔
عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات فوری طور پر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی منتقل ہوئے، جہاں سونے کی قیمتوں نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت 900 روپے کے نمایاں اضافے کے بعد 4 لاکھ 81 ہزار 862 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 771 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 13 ہزار 118 روپے ریکارڈ کی گئی، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔
صرافہ مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی اور کرنسی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کے باعث سونے کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھتا ہے تو سونا سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں تیزی آتی ہے۔
اسی طرح سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 180 روپے کے اضافے کے بعد 9 ہزار 75 روپے تک پہنچ گئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 154 روپے بڑھ کر 7 ہزار 780 روپے کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق صنعتی استعمال اور سرمایہ کاری دونوں حوالوں سے چاندی کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جو قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سیاسی کشیدگی میں کمی نہ آئی اور بڑے مالیاتی اداروں کی پالیسیاں غیر یقینی رہیں تو آنے والے دنوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں، تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیمتوں میں تیزی کے باعث عام صارف کے لیے سونا اور چاندی مزید مہنگی اشیا بنتی جا رہی ہیں، جس سے زیورات کی خریداری اور دیگر مقاصد کے لیے طلب متاثر ہو سکتی ہے۔



















