وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں اور انہیں طبی ماہرین کی سفارش پر معمولی طبی کارروائی کے لیے پمز منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پورے عمل کے دوران تمام قانونی اور انتظامی قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کی گئی۔
نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں آنکھوں کے ماہرین نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ کیا، جس کے بعد ماہرین کی رائے پر انہیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ منتقلی صرف معمولی نوعیت کی طبی کارروائی کے لیے کی گئی تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین نے مشورہ دیا تھا کہ اس نوعیت کی طبی کارروائی کے لیے عمران خان کو پمز لے جانا ضروری ہے، جس پر گزشتہ ہفتے رات کے وقت انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی تحریری رضامندی کے بعد مختصر طبی کارروائی مکمل کی گئی اور ضروری ہدایات دینے کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ طبی کارروائی کے دوران عمران خان کی صحت بالکل تسلی بخش تھی اور کسی قسم کی پیچیدگی سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل قواعد کے مطابق تمام قیدیوں کو طبی سہولتوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بھی اسی اصول کے تحت عمل کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ یہ طبی کارروائی نہ صرف ماہرین کی سفارش پر کی گئی بلکہ اس میں بانی چیئرمین کی مکمل رضامندی بھی شامل تھی۔ انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے غیر ضروری تشویش پھیلانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان صحت مند ہیں اور انہیں تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر، راجا ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا شریک تھے، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن پارٹی قیادت اور اہل خانہ کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ عمران خان سے آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی اور اس کے بعد ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث پارٹی قیادت اور اہل خانہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے اقدامات عوام میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے، جبکہ اس معاملے پر عدالت میں پٹیشن بھی دائر کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی چیئرمین کو ذاتی معالج اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔



















