اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے پس منظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرحد پار سے حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو پاکستان کو مؤثر اور بروقت جواب دینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال مزید برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ کسی مخصوص تاریخ کا اعلان کرنا ممکن نہیں، تاہم حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ جلد اور فیصلہ کن ردعمل سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر آپشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور وہاں کی انتظامیہ اسے روکنے میں ناکام ہے یا اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی تو اسے محض تماشائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن یہ کسی صورت قابل قبول نہیں کہ بات چیت جاری ہو اور اسی دوران حملے بھی ہوتے رہیں۔
وزیر دفاع کے مطابق مختلف فریقوں کی جانب سے پس پردہ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ متعلقہ حلقے تاخیر کے ممکنہ نقصانات کو سمجھتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں پائیدار امن قائم کرنا مقصود ہے تو علاقائی ممالک کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور افغانستان کے استحکام کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی، حتیٰ کہ مالی معاونت جیسے آپشنز بھی زیر غور لائے جا سکتے ہیں۔
ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سویلین حکومت کو عسکری اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام قومی ادارے متحد اور ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشترکہ قومی جنگ ہے جسے اجتماعی عزم اور یکجہتی کے ساتھ جیتنا ہوگا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، بالخصوص خیبر پختونخوا، دہشتگردی کے معاملے پر ایک صفحے پر آئیں گی، کیونکہ داخلی اختلافات دشمن عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ، متحرک اور مکمل طور پر تیار ہے۔



















