لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہرجانے کے دعوے کی سماعت لاہور کی مقامی عدالت میں ہوئی، جہاں ایڈیشنل سیشن جج یلماز غی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کے لیے 12 ستمبر کو طلب کر لیا۔
عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل دستیاب نہ ہونے کے باعث کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جج نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر دونوں فریقین کے وکلا صبح 10 بجے عدالت میں لازمی پیش ہوں تاکہ کیس کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پس منظر میں یہ معاملہ 2017 سے جڑا ہوا ہے، جب عمران خان نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر الزام لگایا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر خاموش رہنے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے عوض انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔
اسی الزام کے جواب میں جولائی 2017 میں شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا اور 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔ بعد ازاں جون 2020 میں شہباز شریف نے اپنے وکیل مصطفیٰ رمدے کے ذریعے عدالت سے درخواست کی کہ دعویٰ کی جلد سماعت کی جائے کیونکہ یہ معاملہ تین سال سے زیر التوا ہے۔ اس درخواست میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی بھی استدعا کی گئی تھی۔
اب ایک بار پھر اس کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے اور عدالت نے وزیر اعظم کو طلب کر کے معاملے کو آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔



















